باج[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خراج، وہ مقرر نذرانہ جو چھوٹے حکمران کی طرف سے بادشاہ یا شہنشاہ کو دیا جاتا ہے۔ "ایرانیوں کا فاتح سپہ سالار . حسب ذیل شرط پیش کرتا ہے، رومی باج ادا کریں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٥١٦:٢ ) ٢ - محصول، لگان، ٹیکس، چنگی۔ "اس گروہ کا گاؤں والوں کی طرف سے سالانہ لگان یا محصول یا باج بھی مقرر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، نکات رموزی، ٥٢:٢ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے ١٥٦٤ء میں حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خراج، وہ مقرر نذرانہ جو چھوٹے حکمران کی طرف سے بادشاہ یا شہنشاہ کو دیا جاتا ہے۔ "ایرانیوں کا فاتح سپہ سالار . حسب ذیل شرط پیش کرتا ہے، رومی باج ادا کریں۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ٥١٦:٢ ) ٢ - محصول، لگان، ٹیکس، چنگی۔ "اس گروہ کا گاؤں والوں کی طرف سے سالانہ لگان یا محصول یا باج بھی مقرر ہوتا ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، نکات رموزی، ٥٢:٢ )

جنس: مذکر